اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے قطر کی دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے تازہ حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے، لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بیان میں اسرائیل کا نام صراحت سے نہیں لیا گیا۔ یہ فیصلہ امریکہ کی حمایت سے متفقہ طور پر کیا گیا، جس نے سلامتی کونسل میں ممبران کے اتفاق رائے کی ضرورت کو پورا کیا۔
بیان، جس کی مسودہ کاری برطانیہ اور فرانس نے کی، نے قطر کی علاقائی سالمیت اور خود مختاری کی بحالی پر زور دیا، ساتھ ہی کہا کہ تنازعے سے کشیدگی میں اضافہ ہونے والے حالات کو فوری کم کرنا چاہیے۔ یہ واقعہ اس وقت ہوا جب قطر امن مذاکرات کی میز پر مصروفِ کار تھا، خاص طور پر غزہ میں جنگ بندی کے سلسلے میں بات چیت کی کوششوں کے دوران۔
قطر کے وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم ال تھانی نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل نے دباؤ ڈالنے اور جنگ بندی کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کے لیے وہاں کے حکام اور رہ نماؤں پر حملہ کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ حملہ ظاہر کرتا ہے کہ عسکریں خواہش نہیں رکھتیں کہ میز پر گفتگو جاری رکھی جائے یا کہ معاہدے ہوں۔
پاکستان نے بھی وہیں سوال اٹھایا کہ آیا واقعتاً اسرائیل کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ میزبانوں کی رہائی کو اولین ترجیح سمجھے۔ پاکستان کے نمائندے نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل اپنی ترجیحات بدلتے ہوئے امن کے امکانات کو پسِ پشت ڈال رہا ہے۔
امریکہ کی نمائندہ اقوام متحدہ ڈوروتی شیعہ نے بیان دیا کہ یہ حملہ نہ تو امریکہ کی پالیسی کے مطابق ہے اور نہ ہی اسرائیل کے مفاد میں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ یہ واقعہ افسوسناک ہے، مگر یہ امن کی طرف ایک موقع بھی فراہم کر سکتا ہے، خاص طور پر اگر بین الاقوامی برادری مل کر دہشت گردی کے خلاف ٹھوس اقدامات اٹھائے۔
الجزائر کی نمائندگی کرنے والی ایمّار بندجما نے اس بیان کو کمزور قرار دیا کہ وہ مجرم کا نام لیے بغیر صرف حملے کی مذمت کرے۔ اُن کا کہنا تھا کہ قانون کی پاسداری اور بین الاقوامی اصولوں کی روشنی میں واضح ہونے والی الفاظی حدود سے تجاوز ہونا چاہیے تاکہ ایسے واقعات کو مستقبل میں روکا جا سکے۔
یہ واقعہ دوحہ میں ہونے والی ایک مخصوص کارروائی ہے، جسے اسرائیل نے حزبِ اختلافی گروپ حماس کے سیاسی رہ نماؤں کے خلاف انجام دیا۔ اس حملے نے مشرق وسطیٰ میں پہلے سے مخدوش امن معاہدوں اور جنگ بندی کی کوششوں کو نئے سرے سے زیرِِ غور لایا ہے، خاص طور پر ایسے وقت جب عالمی سطح پر تشویش بڑھ گئی ہے کہ اگر ایسے واقعات کی باز پرس نہ کی گئی تو علاقائی تناؤ مزید بڑھے گا۔
No comments:
Post a Comment